ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پروفیسر سدھا بھاردواج کو 30-31تک اپنے ہی گھر میں رہنے کا حکم

پروفیسر سدھا بھاردواج کو 30-31تک اپنے ہی گھر میں رہنے کا حکم

Wed, 29 Aug 2018 21:59:56    S.O. News Service

فریدآباد،29؍اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) منگل کی دیررات ایک بجے تک پروفیسر سدھا بھاردواج کی ٹرانزٹ ریمانڈ کا معاملہ جوڈیشیل مجسٹریٹ اشوک شرما کی رہائش گاہ پر چلا۔ جسٹس اشوک شرما نے ہائی کورٹ کے حکم کا احترام کرتے ہوئے سدھا بھاردواج کو 30-31اگست تک سورج کنڈ پولس کی نگرانی میں اپنے ہی گھر میں رہنے کا حکم دے دیا۔

غور طلب ہے کہ منگل کو دہلی این سی آر سمیت کئی ریاستوں میں ایک ساتھ چھاپے ماری کی اور کی لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔وکیل ورندا گروور نے کہا کہ منگل کو ہائی کورٹ نے پوجا بھاردواج کے حق میں ایک حکم دیا تھا کہ انہیں 30-31اگست تک وہاپنے ہی گھر میں سورج کنڈ پولس کی دیکھ ریکھ میں رہیں گی ۔ اس حکم کی کاپی سدھا بھاردواج کے وکیل کے پاس پہنچ گئی لیکن آفیشیل سطح پر پونے پولس کو نہیں ملی تھی اور نہ ہی جسٹس اشوک شرما کے پاس پہنچی تھی۔ اس درمیان جوڈیشیل مجسٹریٹ اشوک شرما نے پونے پولس کو ٹرانزٹ ریمانڈ دے دیا۔

سدھا بھاردواج کے وکیل ورندا گروور کا کہنا ہے کہ وہ بار بار پونے پولس کو کہتی رہی کہ ان کے پاس ہائی کورٹ کے حکم کی کاپی ہے اور 30اگست تک آپ ان کو گرفتار نہیں کر سکتے لیکن پولس نے ان کی باتوں کو نہیں مانا اور پوجا بھاردواج اپنے ساتھ لے کر دیر شام ایئر پورٹ پہنچ گئی ۔ اسی وقت جسٹس اشوک شرما نے ہائی کورٹ کے حکم کی کاپی ملنے کے بعد فوری پونے پولس سے رابطہ کیا اور تمام کو رہائش گاہ پر بلا لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ رات کے وقت ایک بجے تک سدھا بھاردواج کے سامنے سماعت ہوئی اور آخر میں جسٹس اشوک شرما نے ہائی کورٹ کے حکم کا احترام کرتے ہوئے سدھا بھاردواج کواپنے ہی گھر میں 30-31اگست تک پولس کی نگرانی میں رہنے کا حکم دیا۔

آپ کو بتا دیں کہ منگل کی صبح پونے پولس نے حقوق انسانی کمیشن کے کارکن اور لا کالج کی پروفیسر سدھا بھاردواج کو ان کی ہی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا تھا ۔ ان کو بھیما کورے گاؤں میں جنوری میں ہوئے تشدد ،وزیر اعظم کے جانے سے مارنے کی سازش رچنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے تعلقات نکسلیوں سے جڑے ہونے کی بات بتائی گئی ہے ۔ حالانکہ ان کے وکیل ورندا گروور نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے ۔


Share: